داخلی واردات

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - اندرونی احساسات، دلی جذبات، دلی کیفیات۔ "شاعروں نے . خارجی واردات کو داخلی واردات کے استعارے میں . بیان کرنے اور اس طرح ایک کل تعمیر کرنے کوشش کی تھی۔"      ( ١٩٢٣ء، علامتوں کا زوال، ٩٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'داخلی' کے ساتھ عربی ہی سے ماخوذ اسم 'واردات' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٩٢٣ء سے "علامتوں کا زوال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اندرونی احساسات، دلی جذبات، دلی کیفیات۔ "شاعروں نے . خارجی واردات کو داخلی واردات کے استعارے میں . بیان کرنے اور اس طرح ایک کل تعمیر کرنے کوشش کی تھی۔"      ( ١٩٢٣ء، علامتوں کا زوال، ٩٩ )

جنس: مؤنث